بھٹکل:27/ اکتوبر (ایس اؤنیوز)شہری حقوق انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے پولس کمشنر کی نگرانی میں جمعرات کو تعلقہ پنچایت ہال میں منعقدہ میٹنگ کے لئے دعوت نہیں دئیے جانے کے باوجود ماہی گیر موگیر طبقہ کے لیڈران میٹنگ میں حاضر ہوکر، اصل پسماندہ ذات والوں کو اپنے خیالات اور آراء کو پیش کرنے نہ دے کر غنڈہ گردی کئے جانے کا کرناٹکا ریزرویشن رکشھناوکوٹا کے ضلع سکریٹری کرن شرور نے الزام لگایا ہے۔
اس سلسلے میں جمعہ کی شام دنڈین درگا مندرمیں پریس کانفرنس میں بات کرتےہوئے کرن شرور نے کہاکہ میٹنگ میں پسماندہ طبقہ کے بزرگ لیڈر نارائن شرورحکومتی سطح پر ملنے والی سہولیات کے متعلق اپنے سوالات اٹھائے تھےاور انہیں اس سلسلے میں بات کرنے کا حق بھی ہے۔ لیکن انہیں ایسا کرنے سے روکنا دستور کی خلاف ورزی ہے، شخصی آزادی کی ہتک ہے۔اعلیٰ افسران کی موجودگی میں ان پر حملہ کی کوشش کی گئی ہے۔ افسران کو چاہئے کہ وہ خود اپنے طورپر قانونی کارروائی کرنا تھا، معاملے کو لے کر ہم جمعرات کی شام پولس تھانہ میں شکایت دی تو بھی پولس نے اس کو درج نہیں کرلیا ۔ پسماندہ طبقات کو انصاف دلانے میں افسران ناکام ہوئے ہیں۔ اس کو لے کر ضلع بھر میں احتجاج کئے جانےکی انہوں نے جانکاری دی ۔ ضلع پنچایت ، تعلقہ پنچایت میں موگیر ، گونڈا سماج کے لوگ زیادہ ہیں۔ بھٹکل میں پسماندہ طبقات کے لئے مختص کاموں میں موگیر اور گونڈا علاقوں میں 90فی صد سے زائد کام کئے گئےہیں۔ہمارامطالبہ ہے کہ جہاں ہم ہیں وہاں بھی کام کیا جائے،انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس طرح کی مانگ کرنابھی غلط ہے؟ ۔
انہیں سوال کیاگیا کہ ماہی گیر موگیروں کو پسماندہ ذات کی سرٹیفکٹ کولے کر سپریم کورٹ میں معاملہ زیر بحث رہتے میٹنگ میں اس کو پیش کرنا کہاں تک صحیح ہے ؟تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہم اس کے متعلق کوئی بات نہیں کریں گے۔ لیکن ہم ہمارے حقوق کو لے کرآواز اٹھانے کی بات کہی۔ وکیل رویندر منگلا، ماروتی پاؤسکر، سیتارام ، نرسمہا شرالیکر ، اننت سدی، ناگراج شرالیکر، مہیندر پاؤسکر، شری دھر ہلیر وغیرہ موجود تھے۔